سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ نَسْخِ قَوْلِهِ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ باب: : صرف انزال کی وجہ سے غسل لازم ہونے کا حکم منسوخ ہے
حدیث نمبر: 457
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمَرْوَزِيُّ ، نا عَبْدَانُ ، نا أَبُو حَمْزَةَ ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ عِمْرَانَ ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ ، قَالَ : سَأَلْتُ عُرْوَةَ عَنِ الَّذِي يُجَامِعُ وَلا يُنْزِلُ ؟ فَقَالَ : قَوْلُ أَنْ يَأْخُذُوا بِالآخِرَةِ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَحَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ وَلا يَغْتَسِلُ وَذَلِكَ قَبْلَ فَتْحِ مَكَّةَ ، ثُمَّ اغْتَسَلَ بَعْدَ ذَلِكَ وَأَمَرَ النَّاسَ بِالْغُسْلِ " .محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں: میں نے عروہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو صحبت کرتا ہے، لیکن اسے انزال نہیں ہوتا تو عروہ نے جواب دیا: ”لوگوں کی رائے یہ ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری حکم کو اختیار کرتے ہیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے یہ بات بتائی ہے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے ایسا ہی کیا کرتے تھے اور غسل نہیں کرتے تھے، لیکن یہ مکہ فتح ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ اس کے بعد آپ نے غسل کرنا شروع کیا اور لوگوں کو بھی (ایسی صورتحال میں) غسل کرنے کی ہدایت کی۔“