سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ ، قَالَ سُفْيَانُ : وَأَنَا لِحَدِيثِ يَحْيَى أَحْفَظُ ، قَالَ سُفْيَانُ : فَذَكَرْتُهُ لِرَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَحَدَّثَنِي عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " مَا تَقُولُ فِي ضَالَّةِ الإِبِلِ ؟ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ ، فَقَالَ : مَا لَهُ وَلَهَا مَعَهَا الْحَذَّاءُ ، وَالسِّقَاءُ ، تَرِدُ الْمَاءَ ، وَتَأْكُلُ مِنَ الشَّجَرِ ، حَتَّى يَأْتِيَهَا رَبُّهَا ، قَالَ : فَضَالَةُ الْغَنَمِ ؟ ، قَالَ : خُذْهَا هِيَ لَكَ ، أَوْ لأَخِيكَ ، أَوْ لِلذِّئْبِ " .سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کی: آپ گم شدہ اونٹ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے، آپ کے رخسار سرخ ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے! اس کے پاؤں اور اس کا پیٹ اس کے ساتھ ہے وہ خود ہی پانی تک پہنچ جائے گا اور درختوں سے پتے کھا لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک تک آ جائے گا۔“ اس نے عرض کی: پھر آپ گم شدہ بکری کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے پکڑ لو، کیونکہ یا وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا پھر بھیڑیے کو مل جائے گی۔“