سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَهْمِيُّ ، نَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، وَرَبِيعَةُ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عَنِ اللُّقَطَةِ الذَّهَبِ ، وَالْوَرِقِ ، قَالَ : اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَرِّفْهَا سَنَةً ، فَإِنْ لَمْ تُعْرَفْ فَاسْتَغْنِ بِهَا ، وَلْتَكُنْ وَدِيعَةً عِنْدَكَ ، فَإِنْ جَاءَ لَهَا طَالِبٌ يَوْمًا مِنَ الدَّهْرِ فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، وَسَأَلَهُ عَنْ ضَالَّةِ الإِبِلِ ، قَالَ : مَا لَكَ وَمَا لَهَا دَعْهَا فَإِنَّ مَعَهَا حِذَاءَهَا وَسِقَاءَهَا تَرِدُ الْمَاءَ ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِدَهَا رَبُّهَا ، وَسَأَلَهُ عَنِ الشَّاةِ ، فَقَالَ : خُذْهَا فَإِنَّهَا لَكَ ، أَوْ لأَخِيكَ ، أَوْ لِلذِّئْبِ " .سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گرے ہوئے (ملنے والے) سونے یا چاندی کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس (تھیلی) کے منہ پر بندھے ہوئے دھاگے کے نشان کو یاد رکھو اور ایک سال تک اس کا اعلان کرو، اگر پتا نہ چل سکے تو اس کو استعمال کر لو، یہ تمہارے پاس ودیعت کے طور پر رہے گی، کسی بھی زمانے میں کسی بھی وقت اگر اس کا مالک آ گیا تو تم اس کو ادا کر دو گے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارا اس کے ساتھ کیا واسطہ ہے! اسے وہی پر رہنے دو، اس کا پیٹ اس کے پاؤں اس کے ساتھ ہیں وہ خود پانی تک پہنچ جائے گا اور پتے کھا لے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (گم شدہ) بکری کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”یا وہ تمہیں ملے گی یا تمہارے کسی بھائی کو ملے گی یا پھر بھیڑیے کو مل جائے گی۔“