سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
حدیث نمبر: 4564
نَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَالِكِيُّ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ . ح وَنا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالا : نَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : جَاءَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ امْرَأَةُ أَبِي سُفْيَانَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ شَحِيحٌ ، وَإِنَّهُ لا يُعْطِينِي مَا يَكْفِينِي وَيَكْفِي بَنِيَّ إِلا أَنْ آخُذَ وَهُوَ لا يَعْلَمُ ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ فِي ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَيَكْفِي أَوْلادَكِ ، بِالْمَعْرُوفِ " .محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہند بنت عتبہ جو ابوسفیان کی اہلیہ تھیں، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ابوسفیان ایک کنجوس آدمی ہیں، وہ مجھے اتنا خرچ نہیں دیتے ہیں جو میرے یا میرے بچوں کے لیے کافی ہو، تو مجھے ان کی لاعلمی میں نکالنا پڑتا ہے، کیا اس بارے میں مجھ پر گناہ ہو گا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اتنا حاصل کر لیا کرو جو تمہارے اور تمہاری اولاد کے لیے مناسب طریقے سے کافی ہو۔“