سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ نَسْخِ قَوْلِهِ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ باب: : صرف انزال کی وجہ سے غسل لازم ہونے کا حکم منسوخ ہے
حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا ابْنُ بَحِيرٍ ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نا أَبُو دَاوُدَ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، نا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَبِي غَسَّانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يُفْتُونَ ، " أَنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ كَانَتْ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَدْءِ الإِسْلامِ ، ثُمَّ أَمَرَنَا بِالاغْتِسَالِ بَعْدُ " . صَحِيحٌ.محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے: ”کچھ لوگ یہ کہتے ہیں: انزال کی وجہ سے غسل لازم ہوتا ہے (حالانکہ در حقیقت) یہ ایک رخصت تھی، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کے ابتدائی زمانے میں عطا کی تھی، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں غسل کرنے کا حکم دیا۔“ یہ روایت مستند ہے۔