سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
نَا ابْنُ مَنِيعٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، نَا دَهْثَمُ بْنُ قُرَّانٍ ، نَا عَقِيلُ بْنُ دِينَارٍ مَوْلَى حَارِثَةَ بْنِ ظُفُرٍ ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ ظُفُرٍ ، " أَنَّ دَارًا كَانَتْ بَيْنَ أَخَوَيْنِ فَحَظَرَا فِي وَسَطَهَا حِظَارًا ، ثُمَّ هَلَكَا وَتَرَكَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَقِبًا ، فَادَّعَى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَّ الْحِظَارَ لَهُ مِنْ دُونِ صَاحِبِهِ ، فَاخْتَصَمَ عَقَبَاهُمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَرْسَلَ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ فَقَضَى بَيْنَهُمَا فَقَضَى بِالْحِظَارِ لِمَنْ وَجَدَ مَعَاقِدَ الْقِمْطِ تَلِيهِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَأَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَصَبْتَ ، قَالَ دَهْثَمٌ ، أَوْ قَالَ : أَحْسَنْتَ " ، خَالَفَهُ فِي الإِسْنَادِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ.حارثہ بن ظفر بیان کرتے ہیں کہ ایک گھر دو بھائیوں کی مشترکہ ملکیت تھا، ان دونوں نے درمیان میں ایک باڑ قائم کر دی، پھر ان دونوں کا انتقال ہو گیا، ان دونوں نے پسماندگان میں اولاد چھوڑی، ان دونوں میں سے ہر ایک کے بچوں نے یہ دعویٰ کیا کہ زمین کی وہ باڑ ہمارے حصے میں ہے، دوسرے کے حصے میں نہیں۔ جب لوگوں نے یہ مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو ان کا فیصلہ کرنے کو بھیجا۔ انہوں نے اس دیوار کا حساب لگایا کہ وہ کس کی زمین کے ساتھ ملتی ہے اور متعلقہ شخص کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ وہ واپس آئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ٹھیک فیصلہ دیا ہے۔“