حدیث نمبر: 4532
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، وَآخَرُونَ ، قَالُوا : نَا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : " قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الشُّفْعَةِ فِي كُلِّ شِرْكٍ لَمْ يُقْسَمْ : رَبْعَةٌ ، أَوْ حَائِطٌ لا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَبِيعَهُ حَتَّى يَسْتَأْذِنَ شَرِيكَهُ " ، وَقَالَ ابْنُ مَخْلَدٍ : حَتَّى يُؤْذِنَ شَرِيكَهُ ، فَإِنْ شَاءَ أَخَذَ ، وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ ، فَإِنْ بَاعَهُ ، وَلَمْ يُؤْذِنْهُ ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ " ، لَمْ يَقُلْ : يُقْسَمُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ إِلا ابْنُ إِدْرِيسَ ، وَهُوَ مِنَ الثِّقَاتِ الْحُفَّاظِ.
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا کہ ”ہر ایسی چیز میں شفع کیا جا سکتا ہے جو دو لوگوں کی مشترکہ ملکیت ہو، اور اسے تقسیم نہ کیا جا سکتا ہو، جیسے کہ کوئی زمین ہو یا کوئی باغ ہو۔ آدمی کے لیے اس کو فروخت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہو گا جب وہ اپنے شراکت دار سے اس کی اجازت نہیں لیتا۔“ ایک روایت میں یہ بات ہے کہ جب تک اس کا شراکت دار اس سے اجازت نہیں دیتا، اگر وہ شراکت دار چاہے، تو اسے لے اگر چاہے، تو اسے ترک کر دے۔ اگر کوئی شخص ایسی جگہ کو فروخت کر دیتا ہے اور اپنے شراکت دار کو اطلاع نہیں دیتا تو شراکت دار اس جگہ کا زیادہ حق دار ہو گا۔ اس روایت میں ”تقسیم کیا جا سکے“ کے الفاظ صرف عبداللہ بن ادریس نامی راوی نے نقل کیے ہیں اور یہ صاحب ثقہ اور حافظ ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك / حدیث: 4532
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1608، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5178، 5179، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2350، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4705 ، 4709 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6197، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3513، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1312، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2670، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2492،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4532، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14513، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1309، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 23177، 29651»
«قال الدارقطني: لم يقل لم يقسم في هذا الحديث إلا ابن إدريس وهو من الثقات الحفاظ ، سنن الدارقطني: (5 / 401) برقم: (4532)»