سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابُ الشُّفْعَةِ باب: حق شفعہ کا بیان
نَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ الأَوْدِيُّ ، نَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ : أَقْبَلْتُ أَنَا وَأَبُو رَافِعٍ حَتَّى أَتَى سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ : " اشْتَرِ نَصِيبِي فِي دَارِكَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : لا أُرِيدُهُ ، فَقَالَ لَهُ قَائِلٌ : اشْتَرِ مِنْهُ ، فَقَالَ : آخُذُهُ بِأَرْبَعِمِائَةٍ مُعَجَّلَةٍ أَوْ مُؤَخَّرَةٍ ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : قَدْ أُعْطِيتُ خَمْسَةَ آلافٍ مُعَجَّلَةً ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ : مَا أَنَا بِزَائِدِكَ ، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : لَوْلا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ أَوْ نَصِيبِهِ ، مَا بِعْتُكَ بِأَرْبَعِمِائَةٍ وَتَرَكْتُ خَمْسَةَ آلافٍ " .عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں: میں اور سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ، سیدنا سعد کے پاس آئے تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اپنے گھر میں موجود میرے حصے کو آپ خرید لیں۔ سیدنا سعد نے کہا: میں اسے خریدنا نہیں چاہتا۔ پھر کسی شخص نے مشورہ دیا کہ آپ ان سے یہ خرید لیں۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بولے: میں اسے چار سو درہم کے عوض میں خریدوں گا، خواہ جلدی ادائیگی کر دوں یا تاخیر سے کروں۔ تو سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ میں اسے پانچ ہزار درہم کے عوض میں دوں گا جو فوراً ادا کرنے ہوں گے۔ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کہ میں آپ کو مزید ادائیگی نہیں کر سکتا۔ سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرمایا نہ سنا ہوتا: ”پڑوسی اپنے پڑوس میں موجود جگہ کو خریدنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“ تو میں پانچ ہزار درہم چھوڑ کر چار سو درہم میں فروخت نہ کرتا۔