سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
[ بَابُ إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ باب: بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان
نَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ ، عَنْ عَمَّيْهِ يَعْلَى ، وَسَلَمَةَ ابْنِي أُمَيَّةَ ، قَالا : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَمَعَنَا صَاحِبٌ لَنَا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ ، فَقَاتَلَ رَجُلا فَعَضَّ الرَّجُلُ ذِرَاعَهُ فَجَذَبَهَا مِنْ فِيهِ فَسَقَطَتْ ثَنِيَّتَاهُ ، فَذَهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ الْعَقْلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَنْطَلِقُ أَحَدُكُمْ إِلَى أَخِيهِ فَيَعَضُّهُ عَضِيضَ الْفَحْلِ ، ثُمَّ يَأْتِي يَسْأَلُ الْعَقْلَ لا حَقَّ لَكَ ، فَأَطَلَّهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ،.سفیان بن عبداللہ اپنے دو چچاؤں سیدنا یعلیٰ اور سیدنا سلمہ کا بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ تبوک میں شریک ہوئے، ہمارے ساتھ مکہ میں رہنے والا ایک شخص بھی تھا، اس کی ایک شخص کے ساتھ لڑائی ہو گئی، اس نے دوسرے کے بازو پر زور سے کاٹا، دوسرے شخص نے اس کے منہ سے اپنا ہاتھ کھینچا تو اس کے سامنے والے دو دانت ٹوٹ گئے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تا کہ وہ اس کی دیت دلوائیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص اپنے بھائی کی طرف جا کر اسے سانڈ کی طرح کاٹ لیتا ہے اور پھر وہ آ جاتا ہے تا کہ اس بارے میں مطالبہ کرے، تمہیں کوئی حق نہیں ملے گا۔“ راوی کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔