سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
[ بَابُ إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ باب: بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان
حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَاجِيَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ ، نَا فَرَجُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ثَابِتُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ ، أَنَّهُ " اسْتَقْطَعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِلْحَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : مِلْحُ شَذَّا بِمَأْرِبَ فَقَطَعَهُ لَهُ ، ثُمَّ إِنَّ الأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ التَّمِيمِيَّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ وَرَدْتُ الْمِلْحَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَهُوَ بِأَرْضٍ لَيْسَ بِهَا مَاءٌ ، وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ وَهُوَ مثل الْمَاءِ الْعِدِّ ، فَاسْتَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْيَضَ بْنَ حَمَّالٍ فِي قَطِيعَتِهِ مِنْهُ ، قَالَ أَبْيَضُ : قَدْ أَقَلْتُكَ مِنْهُ عَلَى أَنْ تَجْعَلَهُ مِنِّي صَدَقَةً ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : هُوَ مِنْكَ صَدَقَةٌ ، وَهُوَ مثل الْمَاءِ الْعِدِّ وَمَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ " ، قَالَ الْفَرَجُ : وَهُوَ الْيَوْمَ عَلَى ذَلِكَ مَنْ وَرَدَهُ أَخَذَهُ ، وَقَطَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا وَنَخِيلا بِالْجَوْفِ جَوْفُ مُرَادٍ حِينَ أَقَالَهُ مِنْهُ.سیدنا ابیض بن حمال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ ”مآرب“ کے مقام پر موجود ”ملح شذا“ نام کا (قطعہ اراضی) انہیں عطا کر دیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جگہ انہیں عطا کر دی، اس کے بعد اقرع بن حابس تمیمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: یا رسول اللہ! میں زمانہ جاہلیت میں اس مقام تک پہنچ گیا تھا، یہ وہ جگہ تھی جہاں پانی کا نام و نشان نہیں تھا۔ جو شخص وہاں پہنچ جاتا تھا وہ وہاں قبضہ کر لیتا تھا، اس کی مثال بہتے ہوئے پانی کی تھی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابیض بن حمال سے وہ جگہ واپس لے لی۔ تو سیدنا ابیض نے عرض کی کہ میں یہ اس شرط پر واپس کر رہا ہوں کہ یہ میری طرف سے صدقہ شمار ہو گی۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری طرف سے صدقہ شمار ہو گی لیکن اس کی مثال بہتے ہوئے پانی کی سی ہے، جو شخص اس تک پہنچ جائے گا وہ اسے حاصل کر لے گا۔“ فرخ نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے کہ وہ جگہ آج بھی اسی طرح ہے جو شخص وہاں پہنچ جاتا ہے وہ اسے حاصل کر لیتا ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابیض بن حمال کو ”جرف“ کے مقام پر جو ”جرف مراد“ ہے، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کھجوروں کا باغ عنایت کیا، یہ اس پہلی زمین کے بدلے میں تھا۔