سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا وَرَدَ فِي طَهَارَةِ الْمَنِيِّ وَحُكْمِهِ رَطْبًا وَيَابِسًا باب: : تر یا خشک منی کے پاک ہونے اور اس کے حکم کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 452
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ ، حَدَّثَنَا الْمُتَوَكِّلُ بْنُ أَبِي الْفُضَيْلِ ، عَنْ أُمِّ الْقَلُوصِ عَمْرَةَ الْغَاضِرِيَّةِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَرَى عَلَى الثَّوْبِ جَنَابَةً ، وَلا الأَرْضِ جَنَابَةً ، وَلا يُجَنِّبُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ " . لا يُثْبَتُ هَذَا ، أُمُّ الْقَلُوصِ ، لا تُثْبَتُ بِهَا حُجَّةٌ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے: ”کپڑے کو جنابت لاحق نہیں ہوتی، زمین کو جنابت لاحق نہیں ہوتی اور کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو جنبی نہیں کرتا۔“ یہ روایت ثابت نہیں ہے، اس روایت کی راوی ام قلوص نامی خاتون کو مستند تسلیم نہیں کیا گیا۔