سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
[ بَابُ إِحْيَاءِ الْمَوَاتِ باب: بنجر زمینوں کو آباد کرنے کا بیان
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ، أنا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " وُجِدَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ قَتِيلا فِي دَالِيَةِ نَاسٍ مِنَ الْيَهُودِ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ فَأَخَذَ مِنْهُمْ خَمْسِينَ رَجُلا مِنْ خِيَارِهِمْ فَاسْتَحْلَفَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ بِاللَّهِ مَا قَتَلْتُ وَلا عَلِمْتُ قَاتِلا ، ثُمَّ جَعَلَ الدِّيَةَ عَلَيْهِمْ ، قَالُوا : لَقَدْ قَضَى بِمَا فِي نَامُوسِ مُوسَى الْكَلْبِيُّ " مَتْرُوكٌ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک انصاری خیبر میں یہودیوں کے کنویں کے پاس مقتول پایا گیا، ان لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو پیغام بھجوایا کہ وہ لوگ 50 افراد کو لیں، جن میں سے ہر ایک شخص کا نام لے کر قسم اٹھائے کہ ”میں نے اسے قتل نہیں کیا، نہ ہی میں قاتل کے بارے میں کچھ جانتا ہوں۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر دیت کی ادائیگی لازم قرار دی۔ تو انہوں نے کہا: ان صاحب نے وہی فیصلہ دیا ہے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں تھا۔