سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا وَرَدَ فِي طَهَارَةِ الْمَنِيِّ وَحُكْمِهِ رَطْبًا وَيَابِسًا باب: : تر یا خشک منی کے پاک ہونے اور اس کے حکم کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 451
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نا أَبُو الأَشْعَثِ ، نا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهُ مَنِيٌّ غَسَلَهُ ، ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلاةِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى بُقْعَةٍ مِنْ أَثَرِ الْغُسْلِ فِي ثَوْبِهِ " . صَحِيحٌ.محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے پر منی لگ جاتی تو آپ اسے دھو لیتے اور نماز کے لیے تشریف لے جاتے، جب کہ آپ کے کپڑے پر دھونے کے اثر کے نشان میں دیکھ رہی ہوتی تھی۔