حدیث نمبر: 4505
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِهَذَا وَقَالَ : " فَلَمَّا كَانَ الْبَارِحَةَ جَعَلَتْ تَشْتُمُكَ ، وَتَقَعُ فِيكَ فَقَتَلْتُهَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ " ، قَالَ الشَّيْخُ الدَّارَقُطْنِيُّ : فِيهِ سُنَّةٌ فِي الأَصْلِ فِي إِشْهَادِ الْحَاكِمِ عَلَى نَفْسِهِ بِإِنْفَاذِ الْقَضَاءِ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہی بات منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: اس شخص نے عرض کی: گزشتہ دن اس عورت نے آپ کو برا کہنا شروع کیا اور آپ کی شان میں گستاخی کی تو میں نے اسے قتل کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گواہ رہنا کہ اس عورت کا خون رائیگاں گیا ہے۔“ امام دارقطنی نے یہ بات بیان کی ہے کہ اس سے یہ سنت ثابت ہوتی ہے، کوئی فیصلہ دیتے ہوئے حاکم لوگوں کو اپنی ذات کے بارے میں گواہ بنا سکتا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك / حدیث: 4505
تخریج حدیث «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 177، 178، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8136، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4075 ، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 3519، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4361، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3194، 3195، 4503، 4504، 4505، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 11984»