سنن الدارقطني
كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك— فیصلوں کا بیان
بَابٌ فِي قَتْلِ الْمَرْأَةِ إِذَا ارْتَدَّتْ باب: عورت کے مرتد ہونے پرا سے قتل کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ ابْنَةِ مَنِيعٍ ، قِرَاءَةً عَلَيْهِ ، نَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَمِينَةَ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّحَّامِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : كَانَ رَجُلٌ لَهُ امْرَأَةٌ وَلَدَتْ مِنْهُ وَلَدَيْنِ ، قَالَ : " فَكَانَتْ تُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَنْهَاهَا فَلا تَنْتَهِي وَيَزْجُرُهَا فَلا تَنْزَجِرُ ، قَالَ : فَذَكَرَتْهُ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَامَ إِلَيْهَا بِمِعْوَلٍ فَوَضَعَهُ فِي بَطْنِهَا ، ثُمَّ اتَّكَأَ عَلَيْهَا حَتَّى أَنْفَذَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَلا اشْهَدُوا أَنَّ دَمَهَا هَدَرٌ " ،.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کی بیوی جس نے اس شخص کے دو بچوں کو جنم دیا تھا، وہ عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا پہنچایا کرتی تھی۔ وہ شخص اس عورت کو منع کرتا تھا لیکن وہ عورت باز نہیں آتی تھی۔ اس نے اس عورت کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کی، وہ ڈری بھی نہیں۔ ایک دن اس عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں نامناسب بات کی تو اس کے شوہر نے کدال لی اور اس کے پیٹ پر رکھ کر وزن ڈالا، یہاں تک کہ وہ کدال اس کے جسم سے پار ہو گئی (اور وہ عورت مر گئی)۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ گواہ رہنا! اس عورت کا خون رائیگاں گیا ہے۔“