حدیث نمبر: 4465
وَنا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، نَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا مِنْ حَاكِمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ إِلا يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ حَتَّى يُوقِفَهُ عَلَى شَفِيرِ جَهَنَّمَ ، ثُمَّ يَلْتَفِتُ إِلَى اللَّهِ مُغْضَبًا ، فَإِنْ قَالَ : أَلْقِهِ أَلْقَاهُ فِي الْمَهْوَى أَرْبَعِينَ خَرِيفًا " ، وَقَالَ مَسْرُوقٌ : لأَنْ أَقْضِيَ يَوْمًا بِحَقٍّ ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَغْزُوَ سَنَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو بھی حاکم لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے، جب قیامت کے دن اسے زندہ کیا جائے گا، تو اسے ایک فرشتہ گدی سے پکڑے گا اور اسے جہنم کے کنارے پر لے جا کر کھڑا کر دے گا، پھر جب وہ فرشتہ (اس شخص پر) غصے کے عالم میں اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھے گا، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ’اسے اس میں پھینک دو۔‘ تو وہ فرشتہ اسے جہنم میں پھینک دے گا، جس کی گہرائی چالیس برس کی مسافت جتنی ہو گی۔“ مسروق نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں اگر ایک دن حق کے مطابق فیصلے کرتا ہوں، تو یہ میرے نزدیک ایک سو سال تک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك / حدیث: 4465
درجۂ حدیث محدثین: موقوف صحيح
تخریج حدیث «موقوف صحيح ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2311، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 20228، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4465، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4178، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 23414، 33212»
«قال الدارقطني: موقوف صحيح»