حدیث نمبر: 4457
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ فَرَجِ بْنِ فَضَالَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الأَعْلَى بْنِ عَدِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : جَاءَ رَجُلانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : " اقْضِ بَيْنَهُمَا ، قَالَ : وَأَنْتَ هَا هُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : عَلَى مَا أَقْضِي ؟ ، قَالَ : إِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَصَبْتَ لَكَ عَشَرَةُ أُجُورٍ ، وَإِنِ اجْتَهَدْتَ فَأَخْطَأْتَ فَلَكَ أَجْرٌ وَاحِدٌ " ، .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرو۔“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ کی موجودگی میں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں!“ انہوں نے عرض کی: ”میں کیسے فیصلہ کروں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم اجتہاد کرتے ہو اور صحیح فیصلہ کرتے ہو، تو تمہیں دس اجر ملیں گے اور اگر تم اجتہاد کرنے کے بعد غلطی کر جاتے ہو، تو تمہیں ایک اجر ملے گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب فى الأقضية والأحكام وغير ذلك / حدیث: 4457
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 7096، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4457، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6870، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 8988»
«قال ابن حجر: وفيه فرج بن فضالة وهو ضعيف ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 333)»