سنن الدارقطني
كتاب الأحباس— وقف کا بیان
بَابُ وَقْفِ الْمَسَاجِدِ وَالسِّقَايَاتِ باب: مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
نَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا أَبُو مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِي ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، وَيَحْيَى ، وَحُمَيْدٍ ، سَمِعُوا أَبَا بَكْرٍ ، يُخْبِرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ رَبِّهِ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ ، جَعَلَ حَائِطًا لَهُ صَدَقَةً ، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي جَعَلْتُ حَائِطِي صَدَقَةً ، وَهُوَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ ، فَجَاءَ أَبَوَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالا لَهُ : لَمْ يَكُنْ لَنَا عَيْشٌ إِلا هَذَا الْحَائِطُ ، فَرَدَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبَوَيْهِ ، ثُمَّ مَاتَا فَوَرِثَهُمَا " ، وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ .عمرو بن سلیم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ، جنہیں خواب میں اذان دینے کا طریقہ سکھایا گیا تھا، انہوں نے اپنا ایک باغ صدقہ کر دیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”میں نے اپنا یہ باغ صدقہ کر دیا ہے، یہ اللہ اور اس کے رسول کی نذر ہے۔“ پھر ان کے والدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ان دونوں نے عرض کی کہ ہمارا گزر بسر صرف اسی باغ پر ہوتا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان کے والدین کو واپس کر دیا۔ پھر جب ان والدین کا انتقال ہوا، تو ان کے ورثا کو وہ مل گیا۔