حدیث نمبر: 4452
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنِي أَبِي بَكْرٍ ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ حَازِمٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ حَائِطِي هَذَا صَدَقَةٌ ، وَهُوَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولُهُ ، فَجَاءَ أَبَوَاهُ ، فَقَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ قِوَامَ عَيْشِنَا ، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا ، ثُمَّ مَاتَا فَوَرِثَهُمَا ابْنُهُمَا بَعْدَهُمَا " ، هَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ ، لأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ تُوُفِّيَ فِي خِلافَةِ عُثْمَانَ ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرا یہ باغ صدقہ ہے، یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام ہے۔“ تو ان کے والدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہمارا گزر بسر اس باغ پر ہوتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان دونوں کو واپس کر دیا، پھر جب ان دونوں کا انتقال ہوا، تو ان کی اولاد ان کے بعد اس کی وارث بنی۔ یہ روایت ”مرسل“ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا، ابوبکر بن حزم نامی راوی نے ان کا زمانہ نہیں پایا تھا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4452
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 348، 349، 350، 351، 352، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5491، 8111، 8112، 8113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6279، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 251، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4449، 4450، 4451، 4452، 4453، 4454، 4455»
«فيه إرسال ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 259)»