حدیث نمبر: 4449
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، وَيَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ ، قَالا : نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ تَصَدَّقَ بِحَائِطٍ لَهُ ، فَأَتَى أَبَوَاهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّهَا كَانَتْ قَيِّمَ وُجُوهِنَا وَلَمْ يَكُنْ لَنَا مَالٌ غَيْرُهُ ، فَدَعَا عَبْدَ اللَّهِ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلَ مِنْكَ صَدَقَتَكَ ، وَرُدَّهَا عَلَى أَبَوَيْكَ ، قَالَ : فَتَوَارَثْنَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ " ، هَذَا مُرْسَلٌ ، بَشِيرُ بْنُ مُحَمَّدٍ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ . وَرَوَاهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، فَبَيَّنَ إِرْسَالَهُ فِي رِوَايَتِهِ إِيَّاهُ.
محمد محی الدین

بشیر بن محمد، سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا باغ صدقہ کر دیا۔ ان کے والدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اسی پر ہم لوگ گزارا کیا کرتے تھے، ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے صدقے کو قبول کر لیا ہے اور یہ تمہارے ماں باپ کو لوٹا دیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد ہم اس کے وارث بنے تھے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4449
درجۂ حدیث محدثین: مرسل
تخریج حدیث «مرسل ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 348، 349، 350، 351، 352، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5491، 8111، 8112، 8113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6279، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 251، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4449، 4450، 4451، 4452، 4453، 4454، 4455»