سنن الدارقطني
كتاب الأحباس— وقف کا بیان
بَابُ وَقْفِ الْمَسَاجِدِ وَالسِّقَايَاتِ باب: مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالا : نَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا عَبْدَانُ ، نَا أَبِي ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، أَنَّ عُثْمَانَ حِينَ حُصِرَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ : " أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ ، وَلا أَنْشُدُ إِلا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ حَفَرَ بِئْرَ رُومَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ ، فَحَفَرْتُهَا ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلامُ ، قَالَ : مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ الْجَنَّةُ ، فَجَهَّزْتُهُمْ ، فَصَدَّقُوهُ ، قَالَ : وَقَالَ : إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ " .ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو محصور کر دیا گیا، تو انہوں نے لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں اور میں صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ واسطہ دیتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’جو شخص رومہ کنوئیں کو کھدوائے گا (یعنی اسے وقف کر دے گا)، اسے جنت ملے گی۔‘ تو میں نے اسے کھدوایا تھا۔ کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’جو شخص غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرے گا، اسے جنت ملے گی۔‘ میں نے اس کے لیے سامان فراہم کیا تھا۔“ تو ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اس بات کی تصدیق کی۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”جو شخص غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرے گا۔“