حدیث نمبر: 4446
نَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا أَبُو مَسْعُودٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ : لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ دَارِهِ ، فَقَالَ : " أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَلَمْ تَعَلَّمُوا أَنَّ حِرَاءَ حِينَ انْتَفَضَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيُّ ، أَوْ صِدِّيقٌ ، أَوْ شَهِيدٌ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ ، قَالَ : مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ، وَالنَّاسُ مَجْهُودُونَ مُعْسِرُونَ فَجَهَّزْتُ ثُلُثَ ذَلِكَ الْجَيْشِ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَلَمْ تَعَلَّمُوا أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا إِلا بِثَمَنٍ فَاشْتَرَيْتُهَا ، ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ ، وَالْفَقِيرِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، قَالُوا : نَعَمْ فِي أَشْيَاءَ عَدَّدَهَا " .
محمد محی الدین

ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو محصور کر دیا گیا، تو انہوں نے اپنے گھر کی چھت سے لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ کی یاد دلاتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ جب حرا پہاڑ ہلنے لگا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ’اے حرا! اپنی جگہ پر رہو! تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔‘“ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرنا شروع کیا تھا، تو آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ’کون شخص ایسا خرچ کرے گا، جو قبول ہو گا۔‘ تو لوگ اس وقت تنگی کا شکار تھے، تو میں نے اس لشکر کو ایک تہائی سامان فراہم کیا تھا۔“ لوگوں نے جواب دیا: ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ کو اللہ کی یاد دلا کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ رومہ کنوئیں سے پانی صرف قیمت کے عوض میں پیا جا سکتا تھا، تو میں نے اسے خرید کر اسے ہر خوشحال، غریب اور مسافر کے لیے وقف کر دیا تھا۔“ تو ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کچھ اور چیزوں کو بھی شمار کروایا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4446
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2778، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2491، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6916، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1534، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3699، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12052، 12053، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4442، 4443، 4444، 4445، 4446، 4447، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 427»
«قال ابن حجر: جاء من طرق كثيرة شهيرة صحيحة ، الإصابة في تمييز الصحابة: (7 / 102)»