سنن الدارقطني
كتاب الأحباس— وقف کا بیان
بَابُ وَقْفِ الْمَسَاجِدِ وَالسِّقَايَاتِ باب: مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
نَا الْقَاضِي أَبُو عُمَرَ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا شَبَابَةُ ، نَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الدَّارِ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَنَشَدَ النَّاسَ ، فَقَالَ : " أَتَعْلَمُونَ أَنِّي كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِرَاءٍ فَتَحَرَّكَ ، فَقَالَ : اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلا نَبِيُّ ، أَوْ صِدِّيقٌ ، أَوْ شَهِيدٌ ، قَالَ : فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ يُوَسِّعُ لَنَا بَيْتًا فِي الْمَسْجِدِ ؟ ، فَاشْتَرَيْتُ بَيْتًا وَأَوْسَعْتُ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ ، قَالَ : فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ، قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ كَانَتْ تُبَاعُ بَيْعًا مِنِ ابْنِ السَّبِيلِ ، وَإِنِّي اشْتَرَيْتُهَا فَجَعَلْتُهَا لِلَّهِ تَعَالَى ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، قَالُوا : نَعَمْ فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ، ثُمَّ قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ ، وَأَنْفَقْتُ عَلَيْهِ كَذَا وَكَذَا ، فَشَهِدَ لَهُ نَاسٌ ، ثُمَّ قَالَ : وَلَكِنَّهُ طَالَ عَلَيْكُمْ عُمْرِي وَاسْتَعْجَلْتُمْ قَدَرِي أَنْ أَنْزِعَ سِرْبَالا سَرْبَلَنِيهِ اللَّهُ تَعَالَى ، لا وَاللَّهِ لا يَكُونُ ذَلِكَ أَبَدًا " .سیدنا ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر میں محصور کر دیا گیا، تو انہوں نے لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور لوگوں کو قسم دی، وہ بولے: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں حرا پہاڑ کے اوپر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، وہ حرکت میں آنے لگا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’حرا اپنی جگہ پر رہو، تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔‘“ راوی کہتے ہیں کہ لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’کون شخص مسجد میں گھر کا اضافہ کرے گا۔‘ تو میں نے ایک گھر خریدا اور اس کے ذریعے مسجد میں توسیع کروا دی۔“ تو لوگوں نے ان کی بات کی تصدیق کی، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ رومہ کنوئیں کا پانی صرف مسافروں کو فروخت کیا جاتا تھا، میں نے اس کنوئیں کو خریدا اور اسے اللہ کے نام پر وقف کر دیا۔“ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں! کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کیا تھا اور میں نے اس پر اتنی، اتنی رقم خرچ کی تھی۔“ تو لوگوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی تھی، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اتنا عرصہ تمہارے درمیان رہا ہوں، لیکن تم نے میرے بارے میں جلدی بازی کا مظاہرہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو خلعت مجھے پہنائی ہے، میں اسے اتار دوں۔ اللہ کی قسم! یہ کبھی نہیں ہو گا۔“