حدیث نمبر: 4441
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ بْنِ بِنْتِ أَزْهَرَ السَّمَّانُ ، نَا جَدِّي أَزْهَرُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ : كَتَبَ ابْنُ عَامِرٍ إِلَى عُثْمَانَ كِتَابًا فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ وَقَدْ نزل بِهِ أُولَئِكَ فَعَمَدْتُ إِلَى الْكُتُبِ فَخَيَّطْتُهَا فَجَعَلْتُهَا فِي قِبَائِي ثُمَّ لَبِسْتُ لِبَاسَ الْمَرْأَةِ ، فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلْتُ أُفَتِّقُ قِبَائِي وَهُوَ يَنْظُرُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ ، فَقَرَأَهَا ثُمَّ أَشْرَفَ عَلَى الْمَسْجِدِ ، فَإِذَا طَلْحَةُ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْمَشْرِقِ ، فَقَالَ : يَا طَلْحَةُ ، قَالَ : يَا لَبَّيْكَ ، قَالَ : نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ يَشْتَرِي قِطْعَةَ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِدِ وَلَهُ بِهَا كَذَا وَكَذَا ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي ، فَقَالَ طَلْحَةُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْتُمْ فِيهِ آمِنُونَ وَأَنَا فِيهِ خَائِفٌ ، ثُمَّ قَالَ : يَا طَلْحَةُ ، قَالَ : يَا لَبَّيْكَ ، قَالَ : أَنْشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ ، يَعْنِي بِكَذَا فَيَجْعَلُهَا لِلْمُسْلِمِينَ وَلَهُ بِهَا كَذَا وَكَذَا فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي ؟ ، فَقَالَ طَلْحَةُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَقَالَ : يَا طَلْحَةُ ، قَالَ : يَا لَبَّيْكَ ، قَالَ : نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُنِي حَمَلْتُ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ عَلَى مِائَةٍ ، قَالَ طَلْحَةُ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، ثُمَّ قَالَ طَلْحَةُ : اللَّهُمَّ لا أَعْلَمُ عُثْمَانَ إِلا مَظْلُومًا " .
محمد محی الدین

موسیٰ بن حکیم نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ ابن عامر نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھا، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، تو اس وقت تک یہ لوگ ان کے گرد گھیرا ڈال چکے تھے۔ میں نے اس خط کو اپنے کپڑے میں سی لیا اور اسے اپنی قبا کے اندر رکھ لیا، پھر میں نے ایک عورت کا لباس پہنا اور اسی طرح گزرتا ہوا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہو گیا۔ میں ان کے سامنے آ کر بیٹھا، میں نے اپنی قبا کو پھاڑا، وہ دیکھتے رہے۔ میں نے وہ خط ان کی طرف بڑھایا، انہوں نے اسے پڑھا اور پھر انہوں نے مسجد کی طرف منہ کر کے دیکھا، تو وہاں سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ مسجد کے مشرقی سمت میں بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے آواز دی: ”اے طلحہ!“ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”میں حاضر ہوں!“ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ کہتا ہوں کہ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’کون شخص زمین کا یہ ٹکڑا خرید کر اس کے ذریعے مسجد میں توسیع کرے گا، اس کے بدلے میں اسے یہ اجر ملے گا۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا۔“ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تو اب اس مسجد میں آپ لوگ امن کی حالت میں ہیں اور میں اس میں خوف کے عالم میں ہوں۔“ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے طلحہ!“ انہوں نے کہا: ”میں حاضر ہوں!“ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ کہتا ہوں، کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’کون شخص رومہ کے کنوئیں کو خریدے گا اور اسے مسلمانوں کے لیے وقف کرے گا، اسے اس کے بدلے میں یہ، یہ کچھ ملے گا۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا۔“ تو انہوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے طلحہ!“ انہوں نے کہا: ”میں حاضر ہوں!“ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ کو اللہ کے نام کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے غزوہ تبوک کے لیے ایک سو اونٹ فراہم کیے تھے۔“ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ اس کے بعد سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: ”اے اللہ! میرے علم کے مطابق سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ مظلوم ہیں۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4441
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4441 ، انفرد به المصنف من هذا الطريق»