حدیث نمبر: 4440
نَا نَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا هِلالُ بْنُ حَقٍّ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، بِهَذَا وَقَالَ : اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَيَّ فَدُعِيَا لَهُ ، وَزَادَ فِيهِ قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ لَمْ يَكُنْ بِهَا بِئْرٌ يُسْتَعْذَبُ إِلا بِئْرُ رُومَةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يَشْتَرِيهَا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونُ دَلْوُهُ فِيهَا كَدِلاءِ الْمُسْلِمِينَ ، وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ " ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي فَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا .
محمد محی الدین

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”وہ دو لوگ کہاں ہیں، جنہوں نے تمہیں میرے خلاف بھڑکایا ہے؟“ ان دونوں کو لایا گیا۔ اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے، تو وہاں کوئی میٹھا کنواں نہیں تھا، صرف بئر رومہ تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ’کون شخص اپنے مال میں سے اسے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دے؟ تو اسے جنت میں اس سے بہتر اجر ملے گا۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا اور آج تم لوگ مجھے اسی کنوئیں سے پانی پینے سے روک رہے ہو۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4440
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2492، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 321، 322، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3612، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6402، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3703، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12055، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4437، 4438، 4439، 4440»