سنن الدارقطني
كتاب الأحباس— وقف کا بیان
بَابُ وَقْفِ الْمَسَاجِدِ وَالسِّقَايَاتِ باب: مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي ثُمَامَةَ الأَنْصَارِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، نَا هِلالُ بْنُ حَقٍّ ، حَدَّثَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ : شَهِدْتُ الدَّارَ يَوْمَ أُصِيبَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمُ اطِّلاعَةً ، وَقَالَ : " ادْعُوا لِي صَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ يَأْلِبَاكُمْ عَلَيَّ فَدُعِيَا ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمَا بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ ضَاقَ الْمَسْجِدُ بِأَهْلِهِ ، فَقَالَ : مَنْ يَشْتَرِي هَذِهِ الْبُقْعَةَ مِنْ خَالِصِ مَالِهِ فَيَكُونُ فِيهَا كَالْمُسْلِمِينَ ، وَلَهُ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ خَالِصِ مَالِي فَجَعَلْتُهَا لِلْمُسْلِمِينَ ، قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْتُمْ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي صَاحِبُ جَيْشِ الْعُسْرَةِ ؟ ، قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ " .ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس موجود تھا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس گھر کی دیوار سے جھانک کر دیکھا اور بولے: ”تم اپنے دو ساتھیوں کو میرے سامنے لے کر آؤ، جو فساد کی جڑ ہیں۔“ ان دونوں کو سامنے لایا گیا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تم دونوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تھے، تو مسجد نمازیوں کے لیے تنگ ہو گئی تھی، تو آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ’کون شخص اپنے مال میں سے اس زمین کو خرید کر اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دے گا؟ اسے جنت میں اس سے بہتر جگہ ملے گی۔‘ تو میں نے اسے اپنے مال میں سے خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا تھا۔“ تو لوگوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اب تم لوگ مجھے اسی مسجد سے دو رکعت نماز ادا کرنے سے بھی روک رہے ہو، میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے غزوہ تبوک میں ساز و سامان فراہم کیا تھا۔“ تو ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! ایسا ہی ہے۔