سنن الدارقطني
كتاب الأحباس— وقف کا بیان
بَابُ وَقْفِ الْمَسَاجِدِ وَالسِّقَايَاتِ باب: مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
حَدَّثَنَا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، نَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ ، نَا السَّرِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ . ح وَقُرِئَ عَلَى مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ ، بِالْمِفْتَحِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ قِيلَ لَهُ سَمِعْتَ الْعَبَّاسَ بْنَ يَزِيدَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُصَيْنَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ السَّعْدِيِّ . ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ جَاوَانَ الْمَازِنِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَحْنَفَ بْنَ قَيْسٍ . ح وَنا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا أَبُو مَسْعُودٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، أَخْبَرَنِي حُصَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، نَا أَبِي ، نَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ ، نَا حُصَيْنٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عن المعتمر بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يُحَدِّثُ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَاوَانَ ، رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ ، وَذَاكَ أَنِّي قُلْتُ لَهُ : أَرَأَيْتَ اعْتِزَالَ الأَحْنَفِ مَا كَانَ ؟ ، قَالَ : سَمِعْتُ الأَحْنَفَ ، يَقُولُ : وَأَنَا حَاجٌّ ، فَبَيْنَمَا نَحْنُ فِي مَنَازِلِنَا نَضَعُ رِحَالَنَا إِذْ أَتَانَا آتٍ ، فَقَالَ : قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ فِي الْمَسْجِدِ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا النَّاسُ يَجْتَمِعُونَ وَإِذَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ نَفَرٌ قُعُودٌ ، فَإِذَا هُوَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَطَلْحَةُ ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، فَلَمَّا قُمْتُ عَلَيْهِمْ ، قِيلَ : هَذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ قَدْ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ ، قَالَ : فَجَاءَ وَعَلَيْهِ مُلاءَةٌ صَفْرَاءُ فَقُلْتُ لِصَاحِبِي : كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَنْظُرَ مَا جَاءَ بِهِ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : أَهَاهُنَا عَلِيٌّ ، أَهَاهُنَا الزُّبَيْرُ ، أَهَاهُنَا طَلْحَةُ ، أَهَاهُنَا سَعْدُ بْنُ أَبِي قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَابْتَعْتُهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ ، قَالَ : فَاجْعَلْهُ فِي مَسْجِدِنَا وَأَجْرُهُ لَكَ ، فَقَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ يَبْتَاعُ بِئْرَ رُومَةَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : إِنِّي قَدِ ابْتَعْتُ بِئْرَ رُومَةَ ، قَالَ : فَاجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهُ إِلا هُوَ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ يُجَهِّزُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ، فَجَهَّزْتُهُمْ حَتَّى مَا يَفْقِدُونَ عِقَالا وَلا خِطَامًا ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ ، اللَّهُمَّ اشْهَدْ " ، هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ مُعْتَمِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، وَقَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ فِي حَدِيثِهِ : " مَنْ يَبْتَاعُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ " ، فَابْتَعْتُهُ بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ بِخَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا ، وَقَالَ أَيْضًا فِي بِئْرِ رُومَةَ : فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، وَقَالَ : " اجْعَلْهَا سِقَايَةً لِلْمُسْلِمِينَ وَأَجْرُهَا لَكَ " . وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ فِي حَدِيثِهِ فِي قِصَّةِ الْمِرْبَدِ : فَابْتَعْتُهُ بِكَذَا وَكَذَا ، ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : قَدِ ابْتَعْتُ مِرْبَدَ بَنِي فُلانٍ تُوَسِّعُ بِهِ فِي مَسْجِدِ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : " نَعَمْ ، وَقَدْ وَجَبَ أَجْرُهُ لَكَ " ، وَقَالَ فِي بِئْرِ رُومَةَ : فَابْتَعْتُهَا بِعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا ، الشَّكُّ مِنْ حُصَيْنٍ ، وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ فِي قِصَّةِ الْمِرْبَدِ : فَابْتَعْتُهُ بِبَضْعَةٍ وَعِشْرِينَ أَلْفًا أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ ، وَبَقِيَّةُ أَلْفَاظِهِمْ مُتَقَارِبَةٌ وَالْمَعْنَى وَاحِدٌ . وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فِي بِئْرِ رُومَةَ ، فَابْتَعْتُهَا بِكَذَا وَكَذَا.حصین بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے عمرو بن جاوان سے، جن کا تعلق بنو تمیم سے تھا، پوچھا: آپ کا کیا خیال ہے کہ احنف کس بنیاد پر الگ ہوئے تھے؟ تو انہوں نے بتایا: میں نے سیدنا احنف رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: میں ایک مرتبہ مدینہ منورہ آیا، میں حج کے لیے جا رہا تھا۔ ابھی ہم اپنے پڑاؤ کی جگہ پر تھے اور اپنی سواریاں بٹھائی ہی تھیں کہ ایک شخص ہمارے پاس آیا اور بولا: لوگ مسجد میں اکٹھے ہو گئے ہیں۔ میں بھی وہاں گیا، تو میں نے دیکھا کہ وہاں بہت سے لوگ مسجد میں اکٹھے ہو گئے ہیں اور ان کے سامنے کچھ افراد بیٹھے ہوئے ہیں، جن میں سیدنا علی بن ابوطالب، سیدنا زبیر، سیدنا طلحہ اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ جب میں ان کے قریب جا کر کھڑا ہوا، تو یہ اعلان ہوا کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ تشریف لا رہے ہیں۔ جب وہ تشریف لائے، تو انہوں نے زرد رنگ کی چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: کہ یہیں ٹھہرو! ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کیا ہوتا ہے؟ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: کیا علی یہاں ہیں؟ کیا زبیر یہاں ہیں؟ کیا طلحہ یہاں ہیں؟ کیا سعد بن ابی وقاص یہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا: جی ہاں۔ پھر عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، کیا آپ لوگ یہ جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’جو شخص فلاں شخص کی کھجوروں کو سکھانے والی جگہ خرید کر اللہ تعالیٰ کے نام کر دے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا۔‘ تو میں نے وہ جگہ خرید کر دی۔“ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ کو بتایا کہ میں نے وہ جگہ خرید لی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس جگہ کو ہماری مسجد میں شامل کر دو، تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“ تو وہاں موجود تمام افراد نے کہا: یہ بات بالکل ٹھیک ہے۔ اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں، جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، کیا آپ حضرات یہ بات جانتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’جو شخص رومہ کا کنواں خرید کر دے گا، اسے اس کا اجر ملے گا۔‘ تو یہ سننے کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: میں نے رومہ کا کنواں خرید لیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے مسلمانوں کے پانی پینے کے لیے چھوڑ دو، تمہیں اس کا اجر ملے گا۔“ اس پر تمام حاضرین نے کہا: کہ آپ نے یہ بات بالکل ٹھیک بیان کی ہے۔ اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ لوگوں کو اس اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ’کون شخص ہے، جو غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا۔‘“ (سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:) تو میں نے اس لشکر کو پورا سامان فراہم کیا، یہاں تک کہ اونٹ کو باندھنے والی رسی اور مہار بھی انہیں فراہم کی۔ تو سب لوگوں نے کہا: آپ نے یہ بات بھی ٹھیک بیان کی ہے۔ اس پر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا: ”اے اللہ! تو گواہ ہو جا! اے اللہ! تو گواہ ہو جا! اے اللہ! تو گواہ ہو جا!“ یہاں روایت کے الفاظ نقل کرنے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔ ابن ادریس نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”کون شخص بنو فلاں کی کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کو خریدے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے، تو میں نے بیس ہزار درہم کے عوض میں (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) پچیس ہزار درہم کے عوض میں اسے خریدا۔“ اسی طرح انہوں نے بئر رومہ کے بارے میں بھی یہ بات بیان کی کہ میں نے اسے اتنی، اتنی رقم کے عوض میں خریدا تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم اسے مسلمانوں کے پینے کے لیے وقف کر دو، اس کا اجر تمہیں ملے گا۔“ علی بن عاصم نامی راوی نے اپنی روایت میں کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کے واقعے میں یہ بات نقل کی ہے: میں نے اتنی، اتنی رقم کے عوض میں اسے خریدا تھا، پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ہے: میں نے بنو فلاں کی کھجوروں والی جگہ کو خرید لیا ہے، آپ اسے مسلمانوں کی مسجد میں توسیع کے لیے استعمال کریں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ٹھیک ہے! تمہارا اجر واجب ہو گیا ہے۔“ اسی طرح انہوں نے بئر رومہ کے بارے میں یہ فرمایا تھا: میں نے اسے بیس ہزار درہم کے عوض میں (راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں:) پچیس ہزار درہم کے عوض میں خریدا۔ جبکہ ابوعوانہ نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: میں نے کھجوروں کو سکھانے والی جگہ کو بیس ہزار سے کچھ زیادہ رقم کے عوض میں خریدا۔ ان تمام روایات کا مفہوم ایک دوسرے کے قریب ہے۔