سنن الدارقطني
كتاب الأحباس— وقف کا بیان
بَابٌ : فِي حَبْسِ الْمَشَاعِ باب: : زمین کو اپنے پاس رکھنا (اور پیداوارکو وقف کردینا)
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ النَّسَائِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : جَاءَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِنِّي أَصَبْتُ مَالا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ قَطُّ ، وَكَانَ لَهُ مِائَةُ رَأْسٍ فَاشْتَرَيْتُ بِهَا مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ مِنْ أَهْلِهَا ، وَإِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، قَالَ : فَاحْبِسْ أَصْلَهَا وَسَبِّلِ الثَّمَرَ " ، وَرَوَاهُ غَيْرُ شَيْخِنَا ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس طرح کی زمین مجھے کبھی نہیں ملی۔“ (راوی کہتے ہیں:) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ایک سو حصے ملے تھے۔ وہ کہتے ہیں: میں نے اس کے ذریعے خیبر میں ایک سو حصے اس کے مالکان سے خریدے (یعنی اتنی زمین خرید لی)، میں یہ چاہتا ہوں کہ میں اس کے ذریعے اللہ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین کو روکے رہو، اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دو۔“