حدیث نمبر: 4429
نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نَا بِشْرُ بْنُ مَطَرٍ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ كَانَ مَلَكَ مِائَةَ سَهْمٍ مِنْ خَيْبَرَ ، وَاشْتَرَاهَا حَتَّى اسْتَجْمَعَهَا ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي قَدْ أَصَبْتُ مَالا لَمْ أُصِبْ مِثْلَهُ ، وَقَدْ أَرَدْتُ أَنْ أَتَقَرَّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى ، فَقَالَ : احْبِسِ الأَصْلَ وَسَبِّلِ الثَّمَرَ " ،.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، وہ خیبر میں سو حصوں کے مالک بنے تھے، انہوں نے کچھ اور زمین بھی خرید کر اسے اکٹھا کر لیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے: ”مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس طرح کی زمین پہلے کبھی نہیں ملی، میں یہ چاہتا ہوں کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں (یعنی اس کو صدقہ کر دوں)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اصل زمین اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو اللہ کی راہ میں دو۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4429
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص