حدیث نمبر: 4425
نَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالا : نَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ الْعَسْقَلانِيُّ ، بِعَسْقَلانَ ، نَا رَوَّادُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " مَا مِنْ مَالِي شَيْءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الْمِائَةِ وَسْقٍ الَّتِي أَطْعَمْتَنِيهَا مِنْ خَيْبَرَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَاحْبِسْ أَصْلَهَا وَاجْعَلْ ثَمَرَهَا صَدَقَةً ، قَالَ : فَكَتَبَ عُمَرُ هَذَا الْكِتَابَ : مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي ثَمْغٍ وَالْمِائَةِ الْوَسْقِ الَّتِي أَطْعَمَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ ، إِنِّي حَبَسْتُ أَصْلَهَا وَجَعَلْتُ ثَمَرَتَهَا صَدَقَةً لِذِي الْقُرْبَى ، وَالْيَتَامَى ، وَالْمَسَاكِينِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ وَالْمُقِيمِ عَلَيْهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا لا جُنَاحَ ، وَلا يُبَاعُ ، وَلا يُوهَبُ ، وَلا يُورَثُ ، مَا قَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالأَرْضُ ، جَعَلَ ذَلِكَ إِلَى ابْنَتِهِ حَفْصَةَ ، فَإِذَا مَاتَتْ ، فَإِلَى ذِي الرَّأْيِ مِنْ أَهْلِهَا " .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرے نزدیک سب سے بہترین مال وہ زمین ہے، جس کی پیداوار ایک سو وسق ہے، جو آپ نے مجھے خیبر میں عطا کی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اصل زمین کو اپنے پاس رکھو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ تحریر لکھوائی: ”یہ عمر بن خطاب کی طرف سے ہے، جو ’شمغ‘ کی زمین کے بارے میں ہے اور ان ایک سو وسق کے بارے میں ہے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا کیے تھے، جو خیبر میں ہیں۔ میں اس کی اصل کو اپنے پاس رکھوں گا اور اس کے پھل کو صدقہ کر دوں گا، جو قریبی رشتے داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور اس کی نگرانی کرنے والے کو ملے گا۔ تو نگرانی کرنے والا خود بھی اس میں سے کھا سکتا ہے اور اپنے کسی دوست کو بھی کھلا سکتا ہے، اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، البتہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، وراثت میں تقسیم نہیں ہو گی، جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ وصیت کی تھی، پھر اگر ان کا انتقال ہو جاتا، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے خاندان میں سے کسی اور صاحب رائے شخص کی طرف یہ وصیت منتقل ہو جاتی۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4425
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»
«قال الدارقطني: وهو حديث ص