سنن الدارقطني
كتاب الأحباس— وقف کا بیان
بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْحَبْسُ باب: : کس طرح کوئی چیز وقف کی جائے گی ؟
نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ زَنْجُوَيْهِ ، نَا عَفَّانُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لَمَّا نزلت لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 ، قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنَّ رَبَّنَا يَسْأَلُنَا مِنْ أَمْوَالِنَا ، وَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ جَعَلْتُ أَرْضِي بِئْرَ حَاءَ لِلَّهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اجْعَلْهَا فِي قَرَابَتِكَ " ، فَقَسَمَهَا بَيْنَ حَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ.سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ”تم اس وقت تک نیکی تک نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہیں کرتے جو تمہیں پسند ہے۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے پروردگار نے ہم سے ہمارا مال مانگا ہے، میں آپ کو گواہ بنا کر یہ بات کہہ رہا ہوں کہ بیرحاء میں موجود اپنی زمین کو میں اللہ کے نام کرتا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے اپنے قریبی رشتے داروں کو دے دو۔“ تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ زمین سیدنا حسان بن ثابت اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما میں تقسیم کر دی۔