سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي نَهْيِ الْمُحْدِثِ عَنْ مَسِّ الْقُرْآنِ باب: : بےوضو شخص کے لیے قرآن کو چھونا منع ہے
حدیث نمبر: 442
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالا : نا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ ، نا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ ، ثنا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ فِي سَفَرٍ فَقَضَى حَاجَتَهُ ، فَقُلْنَا لَهُ : تَوَضَّأْ حَتَّى نَسْأَلَكَ عَنْ آيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ ، فَقَالَ : سَلُونِي فَإِنِّي لَسْتُ أَمَسُّهُ ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا مَا أَرَدْنَا وَلَمْ يَكُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ مَاءٌ " . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ خَالَفَهُ جَمَاعَةٌ.محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سفر میں شریک تھے، انہوں نے قضائے حاجت کی، ہم نے ان سے کہا: ”آپ وضو کر لیں تاکہ ہم آپ سے قرآن کی ایک آیت کے بارے میں سوال کریں۔“ تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”تم مجھ سے سوال کرو، میں قرآن کو چھو تو نہیں رہا۔“ پھر انہوں نے ہمارے سامنے وہ آیت تلاوت کی، جو ہم چاہ رہے تھے اور اس وقت ہمارے اور ان کے درمیان پانی موجود نہیں تھا۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں اور ایک جماعت نے اس سے اختلاف کیا ہے۔