سنن الدارقطني
كتاب الأحباس— وقف کا بیان
بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْحَبْسُ باب: : کس طرح کوئی چیز وقف کی جائے گی ؟
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْمِصْرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ ، نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : أَصَبْتُ أَرْضًا مِنْ أَرْضِ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْتَأْمِرُهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي أَصَبْتُ مَالا مِنْ خَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ ، فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا ، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ عَلَى أَنْ لا يُبَاعَ ، وَلا يُوهَبَ ، وَلا يُوَرَّثَ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ فِي الْفُقَرَاءِ ، وَفِي الأَقْرَبِينَ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَفِي الرِّقَابِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَالضَّيْفِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ وَيُعْطِيَ بِالْمَعْرُوفِ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ " ، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ : فَذَكَرْتُهُ لابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ : غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالا . تَابَعَهُ أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: مجھے خیبر میں ایک زمین ملی، جو میرے نزدیک سب سے بہترین تھی، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ اس کے بارے میں آپ کی مرضی معلوم کروں، میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، جو میرے نزدیک سب سے بہتر ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اسے فروخت نہیں کیا جا سکتا تھا، اسے ہبہ نہیں کیا جا سکتا تھا، اسے وراثت میں تقسیم نہیں کیا جائے گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پھل کو غریبوں، قریبی رشتے داروں، مجاہدین، غلاموں، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ کیا اور جو شخص اس کا نگران ہو، تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے یا مناسب طریقے سے اپنے کسی دوست کو کچھ دے دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔ یہاں روایت کے ایک لفظ کے بارے میں راویوں نے اختلاف کیا ہے۔