حدیث نمبر: 4417
نَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا عِمْرَانُ بْنُ بَكَّارٍ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَتَى عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، قَالَ : فَحَبَسَ عُمَرُ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقَ بِهَا ، لا يُبَاعُ ، وَلا يُوهَبُ ، وَلا يُورَثُ ، فِي الْفُقَرَاءِ ، وَالْقُرْبَى ، وَالرِّقَابِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَالضَّيْفِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَأَنْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ " ، وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، میرے نزدیک مجھے اس سے زیادہ بہترین زمین کبھی نہیں ملی، آپ مجھے اس بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اصل زمین کو اپنے پاس رکھا اور اس کے پھل کو صدقہ کر دیا، اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکے گا، ہبہ نہیں کیا جا سکے گا، وراثت میں تقسیم نہیں کیا جا سکے گا اور اس کا پھل غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں، مجاہدین، مسافروں، مہمانوں کے لیے ہو گا اور جو شخص اس کا نگران ہو گا، اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طریقے سے خود اس میں سے کچھ کھا لیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4417
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»