حدیث نمبر: 4413
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، نَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، " أَصَابَ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْمِرُهُ فِيهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِنِّي أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ مَا أَصَبْتُ مَالا قَطُّ أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ فَمَا تَأْمُرُنِي بِهَا ؟ ، قَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا أَنَّهَا لا تُبَاعُ أَصْلُهَا ، وَلا تُوهَبُ ، وَلا تُورَثُ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ ، وَالْقُرْبَى وَفِي الرِّقَابِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَالضَّيْفِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ بِالْمَعْرُوفِ ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهَا " .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ اس کے بارے میں آپ سے مشورہ کریں، تو انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، میرے نزدیک مجھے اس سے زیادہ بہترین زمین کبھی نہیں ملی، آپ اس کے بارے میں مجھے کیا حکم کرتے ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو زمین کو اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اس طرح صدقہ کیا کہ اصل زمین کو نہ فروخت کیا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے، نہ وراثت میں تقسیم کیا جا سکتا ہے اور اس کا پھل غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں، مجاہدین، مسافروں اور مہمانوں کے لیے صدقہ تھا اور جو شخص اس کا نگران تھا، اس کو کوئی گناہ نہ ہوتا، اگر وہ خود اس میں سے مناسب طریقے سے کھا لیتا یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا، جبکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4413
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»