سنن الدارقطني
كتاب الأحباس— وقف کا بیان
بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْحَبْسُ باب: : کس طرح کوئی چیز وقف کی جائے گی ؟
حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ ، نَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَصَبْتُ أَرْضًا لَمْ أُصِبْ مَالا قَطُّ هُوَ أَنْفَسُ عِنْدِي مِنْهُ فَكَيْفَ تَأْمُرُنِي فِيهِ ؟ قَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا ، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ ، أَنَّهَا لا تُبَاعُ ، وَلا تُوهَبُ ، وَلا تُورَثُ لِلْفُقَرَاءِ ، وَالْقُرْبَى وَالرِّقَابِ ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ " .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو خیبر میں ایک زمین ملی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ مجھے ایسی زمین ملی ہے کہ اس سے پہلے اس سے زیادہ بہترین زمین نہیں ملی، تو آپ اس بارے میں مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو وہ زمین اپنے پاس رہنے دو اور اس کے پھل کو صدقہ کر دو۔“ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے پھل کو صدقہ کر دیا، اس طرح کہ اس زمین کو فروخت نہیں کیا جا سکتا، ہبہ نہیں کیا جا سکتا، وراثت میں تقسیم نہیں کیا جا سکتا، (اس کا پھل) غریبوں، رشتے داروں، غلاموں، اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں اور مسافروں کو ملے گا۔ جو شخص اس کا نگران ہو گا، اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ مناسب طور پر اس میں سے کھا لیتا ہے، یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔