حدیث نمبر: 441
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ غَيْلانَ ، نا الْحَسَنُ بْنُ الْجُنَيْدِ ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الآدَمِيُّ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمُنَادِي ، قَالا : نا إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ ، نا الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " خَرَجَ عُمَرُ مُتَقَلِّدًا السَّيْفَ ، فَقِيلَ لَهُ : إِنَّ خَتَنَكَ وَأُخْتَكَ قَدْ صَبَوْا ، فَأَتَاهُمَا عُمَرُ وَعِنْدَهُمَا رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ ، يُقَالُ لَهُ : خَبَّابٌ ، وَكَانُوا يَقْرَؤُونَ طه ، فَقَالَ : أَعْطُونِي الْكِتَابَ الَّذِي عِنْدَكُمْ أَقْرَأَهُ ، وَكَانَ عُمَرُ يَقْرَأُ الْكِتَابَ ، فَقَالَتْ لَهُ أُخْتُهُ : إِنَّكَ رِجْسٌ ، وَلا يَمَسُّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ ، فَقُمْ فَاغْتَسِلْ أَوْ تَوَضَّأْ ، فَقَامَ عُمَرُ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ أَخَذَ الْكِتَابَ فَقَرَأَ طه " . الْقَاسِمُ بْنُ عُثْمَانَ ، لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ گلے میں تلوار لٹکا کر نکلے تو انہیں بتایا گیا: ”آپ کے بہنوئی اور آپ کی بہن بے دین ہو گئے ہیں (یعنی انہوں نے اسلام قبول کر لیا ہے)۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان دونوں کے پاس آئے، ان دونوں کے پاس اس وقت ایک مہاجر شخص بیٹھا ہوا تھا، جس کا نام حباب تھا۔ یہ لوگ سورۃ فاتحہ کی تلاوت کر رہے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے پاس جو یہ کتاب موجود ہے، یہ مجھے بھی دو تاکہ میں اس کو پڑھوں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس کتاب کو پڑھنا چاہتے تھے لیکن ان کی بہن نے ان سے کہا: ”آپ ناپاک ہیں، اسے صرف پاکیزہ لوگ چھو سکتے ہیں، انہیں اور غسل کریں یا وضو کریں۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھے، انہوں نے وضو کیا، پھر انہوں نے اس تحریر کو لیا اور سورۃ فاتحہ کو پڑھا۔ اس روایت کا راوی قاسم بن عثمان مستند نہیں ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 441
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2573، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 6989، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 415، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 441، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،، وأخرجه الطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 1860»
«قال الدارقطني: تفرد به القاسم بن عثمان وليس بالقوي ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 196)»