حدیث نمبر: 4406
نَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ بِلالٍ ، نَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالا : نَا ابْنُ وَهْبٍ . ح وثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْهَيْثَمِ أَبُو الرَّبِيعِ الرَّازِيُّ ، نَا حَرْمَلَةُ ، أنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ " اسْتَشَارَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَنْ يَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ الَّذِي بِثَمْغٍ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَصَدَّقْ بِثَمَرِهِ ، وَاحْبِسْ أَصْلَهُ لا يُبَاعُ ، وَلا يُورَثُ " ، وَقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : " تَصَدَّقْ بِهِ تَقْسِمُ ثَمَرَهُ ، وَتَحْبِسُ أَصْلَهُ ، لا يُبَاعُ ، وَلا يُورَثُ ".
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں مشورہ لیا کہ وہ ثمغ میں موجود اپنی زمین کو صدقہ کر دیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس کے پھل کو صدقہ کر دو اور زمین اپنے پاس رہنے دو، اس طرح کہ اسے فروخت نہ کیا جا سکے اور اسے وراثت میں بھی نہ دیا جا سکے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”تم اسے اس طرح صدقہ کرو کہ اس کا پھل تقسیم ہو جائے اور اصل زمین تمہارے پاس رہے کہ اسے فروخت نہ کیا جا سکے اور وراثت میں نہ دیا جا سکے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4406
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»