نَا نَا مُحَمَّدٌ ، نَا إِسْحَاقُ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ : " أَتُحَرِّمُ رَضْعَةٌ أَوْ رَضْعَتَانِ ؟ ، فَقَالَ : مَا أَعْلَمُ الأُخْتَ مِنَ الرَّضَاعَةِ إِلا حَرَامًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ يُرِيدُ ابْنَ الزُّبَيْرِ ، زَعَمَ أَنَّهُ لا تُحَرِّمُ رَضْعَةٌ ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : قَضَاءُ اللَّهِ خَيْرٌ مِنْ قَضَائِكَ ، وَقَضَاءِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ " ،.عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: ”کیا ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کی رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت ہو جاتی ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ رضاعی بہن حرام ہوتی ہے۔“ تو ایک شخص بولا: ”امیر المؤمنین نے تو یہ بات بیان کی ہے (اس شخص کی مراد سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ تھے) کہ ایک مرتبہ کی رضاعت کے ذریعے حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کا فیصلہ تمہارے فیصلے اور امیر المؤمنین کے فیصلے سے بہتر ہے۔“