نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبَّادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : قَالَ عَطَاءٌ : " تُحَرِّمُ مِنْهَا مَا قَلَّ وَمَا كَثُرَ " . قَالَ : وَقَالَ قَالَ : وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ لَمَّا بَلَغَهُ ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ يَأْثُرُ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، " فِي الرَّضَاعِ أَنَّهُ لا يُحَرِّمُ مِنْهُ دُونَ سَبْعِ رَضَعَاتٍ ، قَالَ : قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، خَيْرٌ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ ، إِنَّمَا قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ سورة النساء آية 23 ، وَلَمْ يَقُلْ : رَضْعَةً وَلا رَضْعَتَيْنِ " .عطاء بیان کرتے ہیں: تھوڑی رضاعت بھی وہی حرمت ثابت کرتی ہے جو زیادہ رضاعت سے ثابت ہوتی ہے، ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو اس بات کا پتہ چلا کہ عبداللہ بن زبیر، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے رضاعت کے بارے میں یہ بات بیان کی ہے: سات مرتبہ سے کم دودھ چوسنے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کا فرمان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے زیادہ بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اور تمہاری رضاعی بہنیں۔“ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ کی رضاعت۔