حدیث نمبر: 4389
نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ ، نَا أَبِي ، نَا خَالِدُ بْنُ يُوسُفَ ، نَا أَبِي ، نَا زِيَادُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُئِلَ " عَنِ اللُّقَطَةِ ، فَقَالَ : لا تَحِلُّ اللُّقَطَةُ ، مَنِ الْتَقَطَ شَيْئًا فَلْيُعَرِّفْهُ سَنَةً ، فَإِنْ جَاءَهُ صَاحِبُهَا فَلْيَرُدَّهَا إِلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ يَأْتِ صَاحِبُهَا فَلْيَتَصَدَّقْ بِهَا ، وَإِنْ جَاءَهُ فَلْيُخَيِّرْهُ بَيْنَ الآخَرِ وَبَيْنَ الَّذِي لَهُ " .محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گری ہوئی چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”گری ہوئی چیز کو استعمال کرنا جائز نہیں ہے، جو شخص اس کو اٹھا لیتا ہے، وہ ایک سال تک اس کا اعلان کرے گا، اگر اس کا مالک آ جاتا ہے، تو وہ اسے لوٹا دے گا، اگر اس کا مالک نہیں آتا، تو وہ اسے صدقہ کر دے گا اور اگر پھر اس کا مالک آ جاتا ہے، تو وہ اسے اس کی چیز یا اس کی مانند دوسری چیز کے بارے میں اختیار دے گا۔“