نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْهَاشِمِيِّ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَأَتَاهُ أَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " كَانَتْ عِنْدِي امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا امْرَأَةً فَزَعَمَتِ الأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتِي الْحُدْثَى رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ ، أَوْ قَالَ : إِمْلاجَةً أَوْ إِمْلاجَتَيْنِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لا تُحَرِّمُ الإِمْلاجَةُ وَلا الإِمْلاجَتَانِ ، أَوْ قَالَ : الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ " .سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے، ایک دیہاتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”یا رسول اللہ! میری ایک بیوی ہے، میں نے اس کے بعد ایک اور عورت کے ساتھ شادی کی، تو میری پہلی بیوی نے یہ بات بیان کی، اس نے میری بیوی کو دودھ پلایا ہوا ہے، جو ایک یا شاید دو مرتبہ پلایا تھا یا ایک یا دو گھونٹ پلایا تھا (یہاں پر شک راوی کو ہے)۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک یا دو گھونٹ بھرنے سے (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں: ایک یا دو مرتبہ پینے سے) حرمت ثابت نہیں ہوتی۔“