نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ ، عَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ أَرْضَعَتْنِي ، وَكَانَ الزُّبَيْرُ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا أَمْتَشِطُ ، فَيَأْخُذُ بِقَرْنٍ مِنْ قُرُونِ رَأْسِي ، وَيَقُولُ : أَقْبِلِي عَلَيَّ حَدِّثِينِي ، وَتَرَى أَنَّهُ أَبِي ، وَإِنَّمَا وَلَدَهُ إِخْوَتِي ، فَلَمَّا كَانَ قِبَلَ الْحَرَّةِ أَرْسَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ ابْنَتِي عَلَى حَمْزَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَحَمْزَةُ ، وَمُصْعَبٌ مِنَ الْكِلابِيَّةِ ، قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ : وَهَلْ يَصْلُحُ لَهُ ؟ فَأَرْسَلَ إِلَيَّ : إِنَّمَا تُرِيدِينَ مَنْعَ ابْنَتِكِ أَنَا أَخُوكِ وَمَا وَلَدَتْ أَسْمَاءُ فَهُمْ إِخْوَتُكَ ، وَأَمَّا وَلَدُ الزُّبَيْرِ لِغَيْرِ أَسْمَاءِ ، فَلَيْسُوا لَكِ بِإِخْوَةٍ ، قَالَتْ : فَأَرْسَلْتُ وَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَافِرُونَ وَأُمَّهَاتُ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالُوا : إِنَّ الرَّضَاعَةَ مِنْ قِبَلِ الرَّجُلِ لا تُحَرِّمُ شَيْئًا " .سیدہ زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا نے مجھے دودھ پلایا تھا، اس لیے (سیدہ اسماء کے شوہر) سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ میرے ہاں ایسے وقت میں بھی آ جایا کرتے تھے، جب میں کنگھی کر رہی ہوتی تھی، وہ میرے بال پکڑ کر مجھ سے کہا کرتے تھے: ”ادھر میرے پاس آؤ اور میرے ساتھ بات کرو۔“ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سمجھتی تھیں کہ وہ میرے والد ہیں اور سیدہ اسماء کے بچے میرے بھائی ہیں۔ اس کے بعد واقعہ جرہ سے کچھ پہلے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے (جو میرے رضاعی بھائی تھے) اپنے بیٹے حمزہ کے لیے میری بیٹی کا رشتہ مانگا۔ حمزہ اور مصعب یہ دونوں فلاں عورت کے بیٹے تھے۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ ”کیا ایسا کرنا درست ہو گا؟“ تو عبداللہ بن زبیر نے مجھے جواب میں پیغام بھیجا کہ ”کیا تم اپنی بیٹی کا رشتہ دینے سے انکار کرنا چاہتی ہو؟ میں تمہارا بھائی ہوں اور سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے بچے تمہارے بھائی ہیں، لیکن سیدنا زبیر کی وہ اولاد، جو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے علاوہ دوسرے بچوں سے ہے، وہ تمہارے بہن بھائی نہیں ہیں۔“ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب انہوں نے یہ پیغام بھیجا، تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے صحابہ کرام بھی موجود تھے اور امہات المؤمنین بھی موجود تھیں، انہوں نے یہ بات بیان کی کہ ”رضاعت مرد کی طرف سے کسی چیز کی حرمت کو ثابت نہیں کرتی۔“