حدیث نمبر: 4378
نَا نَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَنَّاطُ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يُونُسَ السَّرَّاجُ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَمَالِكٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ " عَنْ رَجُلٍ لَهُ امْرَأَةٌ وَسَرِيَّةٌ ، فَوَلَدَتْ إِحْدَاهُمَا غُلامًا وَأَرْضَعَتِ الأُخْرَى جَارِيَةً ، هَلْ يَصِحُّ لِلْغُلامِ أَنْ يَنْكِحَ الْجَارِيَةَ ، فَقَالَ : لا اللِّقَاحُ وَاحِدٌ " .محمد محی الدین
عمرو بن شرید بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا، جس کی ایک بیوی ہو اور ایک کنیز ہو، ان دونوں میں سے ایک بچے کو جنم دیتی ہے اور دوسری بچی کو جنم دیتی ہے، تو کیا بچے کے لیے یہ بات جائز ہو گی کہ وہ اس کنیز کی لڑکی سے نکاح کر لے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”جی نہیں! کیونکہ نطفہ ایک ہے۔“