حدیث نمبر: 4376
نَا نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، نَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ . وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " لَقَدْ أنزلت آيَةُ الرَّجْمِ وَرَضَاعَةُ الْكَبِيرِ عَشْرًا ، فَلَقَدْ كَانَتْ فِي صَحِيفَةٍ تَحْتَ سَرِيرِي ، فَلَمَّا مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اشْتَغَلْنَا بِمَوْتِهِ فَدَخَلَ الدَّاجِنُ فَأَكَلَهَا " .محمد محی الدین
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: پہلے یہ آیت نازل ہوئی تھی، جس میں سنگسار کا حکم تھا اور وہ آیت نازل ہوئی تھی، جس میں یہ حکم تھا کہ بڑے بچے کو دس مرتبہ دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ میرے پاس صحیفے میں یہ بات موجود تھی، جو میرے بستر کے نیچے تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اور آپ کے وصال کی وجہ سے ہم مصروف رہے، تو اسی دوران بکری اندر آئی اور اس نے اسے کھا لیا۔