نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : " تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً فَدَخَلَتْ عَلَيْهَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ فَسَأَلَتْ فَأَبْطَأْنَا عَلَيْهَا ، قَالَتْ : تَصَدَّقُوا عَلَيَّ فَوَاللَّهِ لَقَدْ أَرْضَعْتُكُمَا جَمِيعًا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ : دَعْهَا عَنْكَ لا خَيْرَ لَكَ فِيهَا " .سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کی، ایک سیاہ فام عورت اس کے پاس آئی، اس نے کچھ مانگا، ہم نے اسے دینے میں دیر کی، تو وہ بولی: ”تم میری اس بات کی تصدیق کرو، اللہ کی قسم! میں نے تم دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اپنی بیوی کو اپنے سے الگ کر دو، تمہارے لیے اس میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔“