حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، قَالَ : لَمْ يُحَدِّثْنِي ، وَلَكِنْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ ، قَالَ : " تَزَوَّجَتِ ابْنَةُ أَبِي إِهَابٍ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ فَأَعْرَضَ عَنِّي ، وَقَالَ فِي الرَّابِعَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ : كَيْفَ بِكَ وَقَدْ قِيلَ ، قَالَ : وَنَهَاهُ عَنْهَا " ، .سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوایہاب کی صاحبزادی کے ساتھ شادی کر لی، ایک سیاہ فام عورت آئی اور بولی: ”میں نے تم دونوں (میاں بیوی) کو دودھ پلایا ہے۔“ (سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا۔ میں نے دوبارہ آپ سے دریافت کیا، تو آپ نے پھر منہ پھیر لیا۔ میں نے چوتھی مرتبہ یا شاید تیسری مرتبہ دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے؟ جبکہ یہ بات بیان کی جا چکی ہے۔“ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو اس خاتون کے ساتھ تعلق قائم کرنے سے روک دیا۔