نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ عُقْبَةَ ، وَلَكِنِّي لِحَدِيثِ عُبَيْدٍ أَحْفَظُ ، قَالَ : تَزَوَّجَتِ امْرَأَةٌ فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : إِنِّي قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : " إِنِّي تَزَوَّجْتُ فُلانَةَ بِنْتَ فُلانٍ ، فَجَاءَتْنَا امْرَأَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقَالَتْ : قَدْ أَرْضَعْتُكُمَا وَهِيَ كَاذِبَةٌ ، فَأَعْرَضَ عَنِّي فَأَتَيْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ ، فَقُلْتُ : إِنَّهَا كَاذِبَةٌ ، قَالَ : كَيْفَ وَقَدْ زَعَمَتْ أَنَّهَا أَرْضَعَتْكُمَا دَعْهَا عَنْكَ " .سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایک خاتون کے ساتھ شادی کر لی، ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور بولی: ”میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔“ (راوی کہتے ہیں:) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے عرض کی: ”میں نے فلاں کی صاحبزادی، فلاں لڑکی سے شادی کی ہے، تو ایک سیاہ فام عورت ہمارے پاس آئی اور اس نے کہا کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، وہ عورت جھوٹ بولتی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا، میں دوسری طرف سے آپ کے سامنے آیا، تو میں نے عرض کی: ”وہ جھوٹ بولتی ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے؟ جبکہ اس نے یہ بات بیان کر دی ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے، تم اس عورت کو (یعنی اپنی بیوی کو) اپنے سے الگ کر دو۔“