نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْحَرَّانِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو أُمَيَّةَ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَطَّامِيِّ ، نَا أَبُو الْمُهَزِّمِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : " إِنَّ فُلانًا تَزَوَّجَ وَقَدْ أَرْضَعْتُهُمَا ، قَالَ : فَكَيْفَ أَرْضَعْتِهِمَا ؟ ، قَالَتْ : أَرْضَعْتُ الْجَارِيَةَ وَهِيَ ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ وَنِصْفٍ ، وَأَرْضَعْتُ الْغُلامَ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثِ سِنِينَ ، فَقَالَ : اذْهَبِي فَقُولِي لَهُ فَلْيُضَاجِعْهَا هَنِيئًا مَرِيئًا لا رَضَاعَ بَعْدَ الْفِطَامِ ، وَإِنَّمَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا فِي الْمَهْدِ " ، ابْنُ الْقَطَّامِيِّ ، ضَعِيفٌ.سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے عرض کی: ”فلاں شخص نے شادی کر لی ہے، جبکہ میں نے ان دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا ہے۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”تم نے ان دونوں کو کب دودھ پلایا تھا؟“ تو اس خاتون نے جواب دیا: ”میں نے اس بچی کو اس وقت دودھ پلایا تھا، جب وہ ساڑھے چھ سال کی تھی اور بچے کو اس وقت دودھ پلایا تھا، جب وہ تین سال کا تھا۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم جاؤ اور اس سے کہہ دو کہ اپنی بیوی کے ساتھ خوشی خوشی رہے، کیونکہ دودھ پلانے کی عمر کے بعد رضاعت کا حکم ثابت نہیں ہوتا، وہ رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے، جو اس وقت ہو، جب بچہ گود میں ہوتا ہے۔“