نَا نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، نَا أَبُو حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى ، فَقَالَ : " إِنَّ امْرَأَتِي وَرِمَ ثَدْيُهَا فَمَصَصْتُهُ فَدَخَلَ فِي حَلْقِي شَيْءٌ سَبَقَنِي ، فَشَدَّدَ عَلَيْهِ أَبُو مُوسَى ، فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ : سَأَلْتَ أَحَدًا غَيْرِي ؟ ، قَالَ : نَعَمْ أَبَا مُوسَى فَشَدَّدَ عَلَيَّ ، فَأَتَى أَبَا مُوسَى ، فَقَالَ : أَرَضِيعٌ هَذَا ؟ ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى : لا تَسْأَلُونِي مَا دَامَ هَذَا الْحَبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ " .ابوعطیہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا: ”میری بیوی کی چھاتی میں ورم آ گیا تھا، میں نے اسے چوسا، تو میرے حلق میں تھوڑا سا دودھ چلا گیا۔“ تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اسے سخت ڈانٹا، پھر وہ شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تم نے میرے علاوہ بھی کسی سے یہ مسئلہ دریافت کیا ہے؟“ اس نے جواب دیا: ”جی ہاں! سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ہے اور انہوں نے مجھے اس بارے میں سخت ڈانٹا ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے: ”کیا یہ شخص دودھ پینے والا بچہ ہے؟“ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تک اتنے بڑے عالم تمہارے درمیان موجود ہیں، تم لوگ مجھ سے کوئی مسئلہ نہ پوچھا کرو۔“